تحریر: مصطفیٰ علی صالح
حوزہ نیوز ایجنسی|
بلتستان کی سرزمین ہمیشہ سے علم، عرفان اور دینی خدمات کی امین رہی ہے۔ اس خطے نے ہر دور میں ایسے علماء، مبلغین اور اساتذہ پیدا کیے جنہوں نے نہ صرف دینی تعلیم کو فروغ دیا بلکہ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور سماجی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
انہی معاصر علمی شخصیات میں سید محمد علی شاہ الحسینی کا نام نمایاں طور پر لیا جاتا ہے، جن کی زندگی علم، تحقیق، تدریس، تبلیغ اور خدمتِ خلق کے حسین امتزاج کی عکاس ہے۔
سید محمد علی شاہ الحسینی کا تعلق ضلع سکردو کے نواحی گاؤں تھرگوپائن کے ایک ایسے سادات خاندان سے ہے جس کی شناخت کئی نسلوں سے دینی خدمات اور تبلیغِ اسلام سے وابستہ رہی ہے۔ ان کے جد سید شاہ محمد الحسینیؒ اور والد سید ہادی الحسینی مرحوم نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ گھر کا ماحول عبادت، قرآن، مطالعہ اور خدمتِ خلق سے معمور تھا، اسی لیے علم و دین سے وابستگی ان کے لیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک خاندانی امانت بن گئی۔

ان کی قرآنی تعلیم کا آغاز اپنے جد کے ہاتھوں ہوا۔ یہ تربیت رسمی انداز کی نہیں بلکہ شفقت، اخلاق اور روحانیت سے بھرپور تھی۔ کبھی درخت کے سائے میں، کبھی کھیتوں کے کنارے اور کبھی گھر کے صحن میں قرآن کی تعلیم دی جاتی۔ بعد ازاں والد کی نگرانی میں خوش خطی، نظم و ضبط، مطالعے اور محنت کی جو عادت پیدا ہوئی، وہ ان کی پوری علمی زندگی کا سرمایہ بن گئی۔
ثانوی تعلیم کے دوران انہوں نے محدود وسائل اور طویل پیدل سفر کے باوجود تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ میٹرک کے بعد جب 1997ء میں جامعۃ النجف سکردو کا قیام عمل میں آیا تو انہوں نے اس ادارے کے اولین طلبہ میں شامل ہو کر اپنے دینی سفر کا آغاز کیا۔ یہ فیصلہ ان کی زندگی کا ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے ان کی فکری سمت متعین کر دی۔
جامعۃ النجف میں انہیں شیخ محمد علی توحیدی، شیخ احمد علی نوری اور دیگر ممتاز اساتذہ کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، جہاں صرف نصابی علوم ہی نہیں بلکہ وسیع مطالعہ، فکری وسعت اور تحقیقی ذوق بھی پروان چڑھا۔
بعد ازاں جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے انہوں نے آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی سمیت متعدد جید اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ اسی دوران عصری تعلیم کو بھی جاری رکھا اور قومی زبان اردو میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کا یقین تھا کہ مؤثر دعوت، تحقیق اور تصنیف کے لیے زبان، تحقیق اور جدید علمی وسائل پر عبور ناگزیر ہے۔
علمی سفر کا اہم ترین مرحلہ حوزۂ علمیہ قم میں گزرا، جہاں انہوں نے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے تحت علمِ کلام میں تخصص حاصل کیا۔ تقریباً ایک دہائی پر محیط اس علمی سفر میں انہوں نے فقہ، کلام، فلسفہ اور معاصر اعتقادی مباحث پر گہری تحقیق کی۔ ان کی تحقیقی دلچسپی بالخصوص اسماعیلیہ آغاخانیہ کے عقائد کے تنقیدی مطالعے پر مرکوز رہی۔
قم میں قیام کے دوران انہوں نے جدید تحقیقی اسالیب، کمپیوٹر اور علمی تحریر کی مہارتیں بھی حاصل کیں اور اپنی تمام تحقیقی کاوشیں خود مرتب کرنے کو اپنی علمی روایت بنایا۔
اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سید محمد علی شاہ الحسینی جامعۃ النجف سکردو سے وابستہ ہوئے، جہاں وہ آج بھی تدریس، تربیت اور علمی رہنمائی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کا تدریسی انداز محض کتابی معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ طلبہ میں تحقیق، استدلال، تنقیدی فکر اور مطالعے کا ذوق پیدا کرنا ہے۔
وہ طلبہ کو مختلف علمی مصادر سے استفادے کی ترغیب دیتے ہیں اور انہیں عصرِ حاضر کے فکری تقاضوں سے آگاہ رکھنے پر زور دیتے ہیں۔
تبلیغ کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ طالب علمی کے زمانے میں شروع ہونے والا تبلیغی سفر آج تک جاری ہے۔ ان کے خطابات میں قرآن، حدیث، عقل اور تاریخ کا متوازن امتزاج نمایاں ہوتا ہے۔ وہ تبلیغ کو صرف جذباتی خطابت نہیں بلکہ علمی آگہی، فکری اصلاح اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو اعتدال پسند فکر ہے۔ وہ دینی روایت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جدید علمی مباحث سے آگاہی کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک عالمِ دین کی ذمہ داری صرف روایتی علوم تک محدود نہیں بلکہ اسے زبان، تاریخ، سماجیات، جدید افکار اور تحقیق سے بھی واقف ہونا چاہیے تاکہ وہ نئے فکری سوالات کا مؤثر جواب دے سکے۔
سید محمد علی شاہ الحسینی کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ علم صرف اسناد کا نام نہیں بلکہ کردار، تحقیق، خدمت اور مسلسل سیکھنے کا سفر ہے۔ انہوں نے تدریس، تبلیغ، تحقیق اور سماجی خدمت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھا بلکہ انہیں دین کی خدمت کے مختلف پہلو قرار دیا۔
بلتستان کی معاصر دینی و علمی تاریخ کا مطالعہ سید محمد علی شاہ الحسینی جیسے علماء کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان کی خدمات اس امر کی متقاضی ہیں کہ ان کے دروس، مقالات، تحقیقات اور علمی افکار کو منظم انداز میں محفوظ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس علمی سرمایہ سے استفادہ کر سکیں۔ ایسے اہلِ علم درحقیقت کسی ایک ادارے یا علاقے کا سرمایہ نہیں بلکہ پوری قوم کی علمی میراث ہوتے ہیں، جن کی خدمات کو محفوظ کرنا ہماری مشترکہ علمی ذمہ داری ہے۔









آپ کا تبصرہ